Tum apne shikwe ki baatein na khod khod ke poocho
19th Century Mirza Ghalib Urduتم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھو حذر کرو مرے دل سے کہ اس میں آگ دبی ہے
دلا یہ درد_و_الم بھی تو مغتنم ہے کہ آخر نہ گریۂ_سحری ہے نہ آہ_نیم_شبی ہے
نظر بہ_نقص_گدایاں کمال_بے_ادبی ہے کہ خار_خشک کو بھی دعواۓ_چمن_نسبی ہے
ہوا وصال سے شوق_دل_حریص زیادہ لب_قدح پہ کف_بادہ جوش_تشنہ_لبی ہے
خوشا وہ دل کہ سراپا طلسم_بے_خبری ہو جنون و یاس و الم رزق_مدعا_طلبی ہے
چمن میں کس کے یہ برہم ہوئی ہے بزم_تماشا کہ برگ برگ_سمن شیشہ ریزۂ_حلبی ہے
امام_ظاہر_و_باطن امیر_صورت_و_معنی علیؔ ولی اسداللہ جانشین_نبی ہے