Tu dost kisu ka bhi sitam-gar na hua tha
19th Century Mirza Ghalib Urduتو دوست کسو کا بھی ستم_گر نہ ہوا تھا اوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا
چھوڑا مہ_نخشب کی طرح دست_قضا نے خورشید ہنوز اس کے برابر نہ ہوا تھا
توفیق باندازۂ_ہمت ہے ازل سے آنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا
جب تک کہ نہ دیکھا تھا قد_یار کا عالم میں معتقد_فتنۂ_محشر نہ ہوا تھا
میں سادہ_دل آرزدگئ_یار سے خوش ہوں یعنی سبق_شوق مکرر نہ ہوا تھا
دریائے_معاصی تنک_آبی سے ہوا خشک میرا سر_دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا
جاری تھی اسدؔ داغ_جگر سے مری تحصیل آتش_کدہ جاگیر_سمندر نہ ہوا تھا