Tere tausan ko saba baandhte hain
19th Century Mirza Ghalib Urduتیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں ہم بھی مضموں کی ہوا باندھتے ہیں
آہ کا کس نے اثر دیکھا ہے ہم بھی ایک اپنی ہوا باندھتے ہیں
تیری فرصت کے مقابل اے عمر برق کو پابہ_حنا باندھتے ہیں
قید_ہستی سے رہائی معلوم اشک کو بے_سر_و_پا باندھتے ہیں
نشۂ_رنگ سے ہے واشد_گل مست کب بند_قبا باندھتے ہیں
غلطی_ہائے_مضامیں مت پوچھ لوگ نالے کو رسا باندھتے ہیں
اہل_تدبیر کی واماندگیاں آبلوں پر بھی حنا باندھتے ہیں
سادہ پرکار ہیں خوباں غالبؔ ہم سے پیمان_وفا باندھتے ہیں
پاؤں میں جب وہ حنا باندھتے ہیں میرے ہاتھوں کو جدا باندھتے ہیں
حسن_افسردہ_دلی_ہا_رنگیں شوق کو پا_بہ_حنا باندھتے ہیں
قید میں بھی ہے اسیری آزاد چشم_زنجیر کو وا باندھتے ہیں
شیخ_جی کعبے کا جانا معلوم آپ مسجد میں گدھا باندھتے ہیں
کس کا دل زلف سے بھاگا کہ اسدؔ دست_شانہ بہ_قضا باندھتے ہیں
تیرے بیمار پہ ہیں فریادی وہ جو کاغذ میں دوا باندھتے ہیں