Tum jaano tum ko ghair se jo rasm-o-raah ho
19th Century Mirza Ghalib Urduتم جانو تم کو غیر سے جو رسم_و_راہ ہو مجھ کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہو
بچتے نہیں مواخذۂ_روز_حشر سے قاتل اگر رقیب ہے تو تم گواہ ہو
کیا وہ بھی بے_گنہ_کش و حق_ناشناس ہیں مانا کہ تم بشر نہیں خورشید و ماہ ہو
ابھرا ہوا نقاب میں ہے ان کے ایک تار مرتا ہوں میں کہ یہ نہ کسی کی نگاہ ہو
جب مے_کدہ چھٹا تو پھر اب کیا جگہ کی قید مسجد ہو مدرسہ ہو کوئی خانقاہ ہو
سنتے ہیں جو بہشت کی تعریف سب درست لیکن خدا کرے وہ ترا جلوہ_گاہ ہو
غالبؔ بھی گر نہ ہو تو کچھ ایسا ضرر نہیں دنیا ہو یا رب اور مرا بادشاہ ہو