Shab ke woh majlis-furoz-e-khalwat-e-namoos tha
19th Century Mirza Ghalib Urduشب کہ وہ مجلس_فروز_خلوت_ناموس تھا رشتۂ_ہر_شمع خار_کسوت_فانوس تھا
مشہد_عاشق سے کوسوں تک جو اگتی ہے حنا کس قدر یارب ہلاک_حسرت_پا_بوس تھا
حاصل_الفت نہ دیکھا جز_شکست_آرزو دل_بہ_دل پیوستہ گویا یک لب_افسوس تھا
کیا کہوں بیماریٔ_غم کی فراغت کا بیاں جو کہ کھایا خون_دل بے_منت_کیموس تھا
بت پرستی ہے بہار نقش بند یہائے دہر ہر صریر خامہ میں یک نالۂ ناقوس تھا
طبع کی واشد نے رنگ یک گلستاں گل کیا یہ دل وابستہ گویا بیضۂ طاؤس تھا
کل اسدؔ کو ہم نے دیکھا گوشۂ غم خانہ میں دست برسر سر بزانوئے دل مایوس تھا