Seemab-pusht garmi-e-aaina de hai hum
19th Century Mirza Ghalib Urduسیماب_پشت گرمی_آئینہ دے ہے ہم حیراں کیے ہوئے ہیں دل_بے_قرار کے
آغوش_گل کشودہ براۓ_وداع ہے اے عندلیب چل کہ چلے دن بہار کے
یوں بعد_ضبط_اشک پھروں گرد یار کے پانی پیے کسو پہ کوئی جیسے وار کے
بعد_از_وداع_یار بہ_خوں در تپیدہ ہیں نقش_قدم ہیں ہم کف_پاۓ_نگار کے
ہم مشق_فکر_وصل_و_غم_ہجر سے اسدؔ لائق نہیں رہے ہیں غم_روزگار کے