Sargashtagi mein aalam-e-hasti se yaas hai
19th Century Mirza Ghalib Urduسرگشتگی میں عالم_ہستی سے یاس ہے تسکیں کو دے نوید کہ مرنے کی آس ہے
لیتا نہیں مرے دل_آوارہ کی خبر اب تک وہ جانتا ہے کہ میرے ہی پاس ہے
کیجے بیاں سرور_تپ_غم کہاں تلک ہر مو مرے بدن پہ زبان_سپاس ہے
ہے وہ غرور_حسن سے بیگانۂ_وفا ہرچند اس کے پاس دل_حق_شناس ہے
پی جس قدر ملے شب_مہتاب میں شراب اس بلغمی_مزاج کو گرمی ہی راس ہے
ہر اک مکان کو ہے مکیں سے شرف اسدؔ مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے
کیا غم ہے اس کو جس کا علیؔ سا امام ہو اتنا بھی اے فلک_زدہ کیوں بد_حواس ہے