Safaa-e-hairat-e-aaina hai saamaan-e-zang aakhir
19th Century Mirza Ghalib Urduصفاۓ_حیرت_آئینہ ہے سامان_زنگ آخر تغیر آب_بر_جا_ماندہ کا پاتا ہے رنگ آخر
نہ کی سامان_عیش_و_جاہ نے تدبیر وحشت کی ہوا جام_زمرد بھی مجھے داغ_پلنگ آخر
خط_نوخیز نیل_چشم زخم_صافیٔ_عارض لیا آئینہ نے حرز_پر_طوطی بچنگ آخر
ہلال_آسا تہی رہ گر کشادن_ہائے_دل چاہے ہوا مہ کثرت_سرمایہ_اندوزی سے تنگ آخر
تڑپ کر مر گیا وہ صید_بال_افشاں کہ مضطر تھا ہوا ناسور_چشم_تعزیت چشم_خدنگ آخر
لکھی یاروں کی بد_مستی نے میخانے کی پامالی ہوئی قطرہ_فشانی_ہائے_مے_باران_سنگ آخر
اسدؔ پردے میں بھی آہنگ_شوق_یار قائم ہے نہیں ہے نغمے سے خالی خمیدن_ہائے_چنگ آخر