Bazm-e-shahanshah mein ashaar ka daftar khula
19th Century Mirza Ghalib Urduبزم_شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا رکھیو یا رب یہ در_گنجینۂ_گوہر کھلا
شب ہوئی پھر انجم_رخشندہ کا منظر کھلا اس تکلف سے کہ گویا بت_کدے کا در کھلا
گرچہ ہوں دیوانہ پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب آستیں میں دشنہ پنہاں ہاتھ میں نشتر کھلا
گو نہ سمجھوں اس کی باتیں گو نہ پاؤں اس کا بھید پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری_پیکر کھلا
ہے خیال_حسن میں حسن_عمل کا سا خیال خلد کا اک در ہے میری گور کے اندر کھلا
منہ نہ کھلنے پر ہے وہ عالم کہ دیکھا ہی نہیں زلف سے بڑھ کر نقاب اس شوخ کے منہ پر کھلا
در پہ رہنے کو کہا اور کہہ کے کیسا پھر گیا جتنے عرصے میں مرا لپٹا ہوا بستر کھلا
کیوں اندھیری ہے شب_غم ہے بلاؤں کا نزول آج ادھر ہی کو رہے_گا دیدۂ_اختر کھلا
کیا رہوں غربت میں خوش جب ہو حوادث کا یہ حال نامہ لاتا ہے وطن سے نامہ_بر اکثر کھلا
اس کی امت میں ہوں میں میرے رہیں کیوں کام بند واسطے جس شہہ کے غالبؔ گنبد_بے_در کھلا