Be-e'tedaaliyon se subuk sab mein hum huay
19th Century Mirza Ghalib Urduبے_اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوئے جتنے زیادہ ہو گئے اتنے ہی کم ہوئے
پنہاں تھا دام سخت قریب آشیان کے اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے
ہستی ہماری اپنی فنا پر دلیل ہے یاں تک مٹے کہ آپ ہم اپنی قسم ہوئے
سختی کشان_عشق کی پوچھے ہے کیا خبر وہ لوگ رفتہ رفتہ سراپا الم ہوئے
تیری وفا سے کیا ہو تلافی کہ دہر میں تیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے
لکھتے رہے جنوں کی حکایات_خوں_چکاں ہر_چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
اللہ رے تیری تندی_خو جس کے بیم سے اجزائے_نالہ دل میں مرے رزق_ہم ہوئے
اہل_ہوس کی فتح ہے ترک_نبرد_عشق جو پانو اٹھ گئے وہی ان کے علم ہوئے
نالے عدم میں چند ہمارے سپرد تھے جو واں نہ کھنچ سکے سو وہ یاں آ کے دم ہوئے
چھوڑی اسدؔ نہ ہم نے گدائی میں دل_لگی سائل ہوئے تو عاشق_اہل_کرم ہوئے