Raftaar-e-umr qat-e-raah-e-iztiraab hai
19th Century Mirza Ghalib Urduرفتار_عمر قطع_رہ_اضطراب ہے اس سال کے حساب کو برق آفتاب ہے
مینائے_مے ہے سرو نشاط_بہار سے بال_تدرو جلوۂ_موج_شراب ہے
زخمی ہوا ہے پاشنہ پاۓ_ثبات کا نے بھاگنے کی گوں نہ اقامت کی تاب ہے
جاداد_بادہ_نوشی_رنداں ہے شش_جہت غافل گماں کرے ہے کہ گیتی خراب ہے
نظارہ کیا حریف ہو اس برق_حسن کا جوش_بہار جلوے کو جس کے نقاب ہے
میں نا_مراد دل کی تسلی کو کیا کروں مانا کہ تیرے رخ سے نگہ کامیاب ہے
گزرا اسدؔ مسرت_پیغام_یار سے قاصد پہ مجھ کو رشک_سوال_و_جواب ہے
ظاہر ہے طرز_قید سے صیاد کی غرض جو دانہ دام میں ہے سو اشک_کباب ہے
بے_چشم_دل نہ کر ہوس_سیر_لالہ_زار یعنی یہ ہر ورق ورق_انتخاب ہے