Rahiye ab aisi jagah chal kar jahan koi na ho
19th Century Mirza Ghalib Urduرہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو ہم_سخن کوئی نہ ہو اور ہمزباں کوئی نہ ہو
بے_در_و_دیوار سا اک گھر بنایا چاہیے کوئی ہمسایہ نہ ہو اور پاسباں کوئی نہ ہو
پڑیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیماردار اور اگر مر جائیے تو نوحہ_خواں کوئی نہ ہو