Nukta-cheen hai gham-e-dil uss ko sunaye na bane
19th Century Mirza Ghalib Urduنکتہ_چیں ہے غم_دل اس کو سنائے نہ بنے کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے
میں بلاتا تو ہوں اس کو مگر اے جذبۂ_دل اس پہ بن جائے کچھ ایسی کہ بن آئے نہ بنے
کھیل سمجھا ہے کہیں چھوڑ نہ دے بھول نہ جائے کاش یوں بھی ہو کہ بن میرے ستائے نہ بنے
غیر پھرتا ہے لیے یوں ترے خط کو کہ اگر کوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے
اس نزاکت کا برا ہو وہ بھلے ہیں تو کیا ہاتھ آویں تو انہیں ہاتھ لگائے نہ بنے
کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ_گری کس کی ہے پردہ چھوڑا ہے وہ اس نے کہ اٹھائے نہ بنے
موت کی راہ نہ دیکھوں کہ بن آئے نہ رہے تم کو چاہوں کہ نہ آؤ تو بلائے نہ بنے
بوجھ وہ سر سے گرا ہے کہ اٹھائے نہ اٹھے کام وہ آن پڑا ہے کہ بنائے نہ بنے
عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے