Paye-nazr-e-karam tohfa hai sharm-na-rasai ka
19th Century Mirza Ghalib Urduپئے_نذر_کرم تحفہ ہے شرم_نا_رسائی کا بہ_خوں_غلتیدۂ_صد_رنگ دعویٰ پارسائی کا
نہ ہو حسن_تماشا_دوست رسوا بے_وفائی کا بہ_مہر_صد_نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا
زکات_حسن دے اے جلوۂ_بینش کہ مہر_آسا چراغ_خانۂ_درویش ہو کاسہ گدائی کا
نہ مارا جان کر بے_جرم غافل تیری گردن پر رہا مانند_خون_بے_گنہ حق آشنائی کا
تمناۓ_زباں محو_سپاس_بے_زبانی ہے مٹا جس سے تقاضا شکوۂ_بے_دست_و_پائی کا
وہی اک بات ہے جو یاں نفس واں نکہت_گل ہے چمن کا جلوہ باعث ہے مری رنگیں_نوائی کا
دہان_ہر_بت_پیغارہ_جو زنجیر_رسوائی عدم تک بے_وفا چرچا ہے تیری بے_وفائی کا
نہ دے نالے کو اتنا طول غالبؔ مختصر لکھ دے کہ حسرت_سنج ہوں عرض_ستم_ہائے_جدائی کا
جہاں مٹ جائے سعیٔ_دید خضر_آباد_آسائش بہ_جیب_ہر_نگہ پنہاں ہے حاصل رہنمائی کا
بہ_عجز_آباد وہم_مدعا تسلیم_شوخی ہے تغافل کو نہ کر مصروف_تمکیں_آزمائی کا
اسدؔ کا قصہ طولانی ہے لیکن مختصر یہ ہے کہ حسرت_کش رہا عرض_ستم_ہائے_جدائی کا
ہوس گستاخیٔ_آئینہ تکلیف_نظر_بازی بہ_جیب_آرزو پنہاں ہے حاصل دل_ربائی کا
نظر_بازی طلسم_وحشت_آباد_پرستاں ہے رہا بیگانۂ_تاثیر افسوں آشنائی کا
نہ پایا دردمند_دوریٔ_یاران_یک_دل نے سواد_خط_پیشانی سے نسخہ مومیائی کا
اسدؔ یہ عجز_و_بے_سامانیٔ_فرعون_توام ہے جسے تو بندگی کہتا ہے دعویٰ ہے خدائی کا