Nikohish hai saza faryadi-e-bedaad-e-dilbar ki
19th Century Mirza Ghalib Urduنکوہش ہے سزا فریادی_بے_داد_دلبر کی مبادا خندۂ_دنداں_نما ہو صبح محشر کی
رگ_لیلیٰ کو خاک_دشت_مجنوں ریشگی بخشے اگر بووے بجاۓ_دانہ دہقاں نوک نشتر کی
پر_پروانہ شاید بادبان_کشتی_مے تھا ہوئی مجلس کی گرمی سے روانی دور_ساغر کی
کروں بے_داد_ذوق_پر_فشانی عرض کیا قدرت کہ طاقت اڑ گئی اڑنے سے پہلے میرے شہ_پر کی
کہاں تک روؤں اس کے خیمے کے پیچھے قیامت ہے مری قسمت میں یارب کیا نہ تھی دیوار پتھر کی
بجز دیوانگی ہوتا نہ انجام_خود_آرائی اگر پیدا نہ کرتا آئنہ زنجیر جوہر کی
غرور_لطف_ساقی نشۂ_بیباکی_مستاں نم_دامان_عصیاں ہے طراوت موج_کوثر کی
مرا دل مانگتے ہیں عاریت اہل_ہوس شاید یہ جانا چاہتے ہیں آج دعوت میں سمندر کی
اسدؔ جز آب_بخشیدن ز_دریا خضر کو کیا تھا ڈبوتا چشمۂ_حیواں میں گر کشتی سکندر کی