Na hui gar mere marne se tasalli na sahi
19th Century Mirza Ghalib Urduنہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی امتحاں اور بھی باقی ہو تو یہ بھی نہ سہی
خار خار_الم_حسرت_دیدار تو ہے شوق گلچین_گلستان_تسلی نہ سہی
مے_پرستاں خم_مے منہ سے لگائے ہی بنے ایک دن گر نہ ہوا بزم میں ساقی نہ سہی
نفس_قیس کہ ہے چشم_و_چراغ_صحرا گر نہیں شمع_سیہ_خانۂ_لیلی نہ سہی
ایک ہنگامہ پہ موقوف ہے گھر کی رونق نوحۂ_غم ہی سہی نغمۂ_شادی نہ سہی
نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی
عشرت_صحبت_خوباں ہی غنیمت سمجھو نہ ہوئی غالبؔ اگر عمر_طبیعی نہ سہی