Na leve gar khas-e-jauhar taravat sabza-e-khat se
19th Century Mirza Ghalib Urduنہ لیوے گر خس_جوہر طراوت سبزۂ_خط سے لگائے خانۂ_آئینہ میں روئے_نگار آتش
فروغ_حسن سے ہوتی ہے حل_مشکل_عاشق نہ نکلے شمع کے پا سے نکالے گر نہ خار آتش
شرر ہے رنگ بعد اظہار_تاب_جلوۂ_تمکیں کرے ہے سنگ پر خورشید آب_روئے_کار آتش
پناوے بے_گداز_موم ربط_پیکر_آرائی نکالے کیا نہال_شمع بے_تخم_شرار آتش
خیال_دود تھا سر_جوش_سودائے_غلط_فہمی اگر رکھتی نہ خاکستر_نشینی کا غبار آتش
ہوائے_پر_فشانی برق_خرمن_ہائے_خاطر ہے ببال_شعلۂ_بیتاب ہے پروانہ_زار آتش
نہیں برق_و_شرر جز وحشت_ضبط_تپیدن_ہا بلا گردان_بے_پروا خرامی_ہائے_یار آتش
دھوئیں سے آگ کے اک ابر_دریا_بار ہو پیدا اسدؔ حیدر_پرستوں سے اگر ہووے دو_چار آتش