Na hoga yak-biyabaan maandagi se zauq kam mera
19th Century Mirza Ghalib Urduنہ ہوگا یک_بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا حباب_موجۂ_رفتار ہے نقش_قدم میرا
محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بے_دماغی ہے کہ موج_بوئے_گل سے ناک میں آتا ہے دم میرا
رہ_خوابیدہ تھی گردن_کش_یک_درس_آگاہی زمیں کو سیلئ_استاد ہے نقش_قدم میرا
سراغ_آوارۂ_عرض_دو_عالم شور_محشر ہوں پرافشاں ہے غبار آں سوئے_صحرائے_عدم میرا
ہوائے_صبح یک_عالم گریباں چاکی_گل ہے دہان_زخم پیدا کر اگر کھاتا ہے غم میرا
نہ ہو وحشت_کش_درس_سراب_سطر_آگاہی میں گرد_راہ ہوں بے_مدعا ہے پیچ_و_خم میرا
اسدؔ وحشت_پرست_گوشۂ_تنہائی_دل ہے برنگ_موج_مے خمیازۂ_ساغر ہے رم میرا