Na gul-naghma hoon na parda-e-saaz
19th Century Mirza Ghalib Urduنہ گل_نغمہ ہوں نہ پردۂ_ساز میں ہوں اپنی شکست کی آواز
تو اور آرائش_خم_کاکل میں اور اندیشہ_ہائے_دور_دراز
لاف_تمکیں فریب_سادہ_دلی ہم ہیں اور راز_ہائے_سینہ_گداز
ہوں گرفتار_الفت_صیاد ورنہ باقی ہے طاقت_پرواز
وہ بھی دن ہو کہ اس ستم_گر سے ناز کھینچوں بجائے حسرت_ناز
نہیں دل میں مرے وہ قطرۂ_خوں جس سے مژگاں ہوئی نہ ہو گلباز
اے ترا غمزہ یک_قلم_انگیز اے ترا ظلم سر_بہ_سر انداز
تو ہوا جلوہ_گر مبارک ہو ریزش_سجدۂ_جبین_نیاز
مجھ کو پوچھا تو کچھ غضب نہ ہوا میں غریب اور تو غریب_نواز
اسدؔ_اللہ خاں تمام ہوا اے دریغا وہ رند_شاہد_باز