Muzhda ae zauq-e-aseeri ke nazar aata hai
19th Century Mirza Ghalib Urduمژدہ اے ذوق_اسیری کہ نظر آتا ہے دام_خالی قفس_مرغ_گرفتار کے پاس
جگر_تشنۂ_آزار تسلی نہ ہوا جوئے_خوں ہم نے بہائی بن_ہر خار کے پاس
مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں ہے ہے خوب وقت آئے تم اس عاشق_بیمار کے پاس
میں بھی رک رک کے نہ مرتا جو زباں کے بدلے دشنہ اک تیز سا ہوتا مرے غم_خوار کے پاس
دہن_شیر میں جا بیٹھے لیکن اے دل نہ کھڑے ہو جیے خوبان_دل_آزار کے پاس
دیکھ کر تجھ کو چمن بسکہ نمو کرتا ہے خود_بہ_خود پہنچے ہے گل گوشۂ_دستار کے پاس
مر گیا پھوڑ کے سر غالبؔ_وحشی ہے ہے بیٹھنا اس کا وہ آ کر تری دیوار کے پاس