Bahut sahi gham-e-geeti sharaab kam kya hai
19th Century Mirza Ghalib Urduبہت سہی غم_گیتی شراب کم کیا ہے غلام_ساقیٔ_کوثر ہوں مجھ کو غم کیا ہے
تمہاری طرز_و_روش جانتے ہیں ہم کیا ہے رقیب پر ہے اگر لطف تو ستم کیا ہے
سخن میں خامۂ_غالبؔ کی آتش_افشانی یقیں ہے ہم کو بھی لیکن اب اس میں دم کیا ہے
کٹے تو شب کہیں کاٹے تو سانپ کہلاوے کوئی بتاؤ کہ وہ زلف_خم_بہ_خم کیا ہے
لکھا کرے کوئی احکام_طالع_مولود کسے خبر ہے کہ واں جنبش_قلم کیا ہے
نہ حشر_و_نشر کا قائل نہ کیش و ملت کا خدا کے واسطے ایسے کی پھر قسم کیا ہے
وہ داد_و_دید گراں_مایہ شرط ہے ہم_دم وگرنہ مہر_سلیمان_و_جام_جم کیا ہے