Baagh pa kar khafqani yeh darata hai mujhe
19th Century Mirza Ghalib Urduباغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے سایۂ_شاخ_گل افعی نظر آتا ہے مجھے
جوہر_تیغ بہ_سر_چشمۂ_دیگر معلوم ہوں میں وہ سبزہ کہ زہراب اگاتا ہے مجھے
مدعا محو_تماشائے_شکست_دل ہے آئنہ_خانہ میں کوئی لیے جاتا ہے مجھے
نالہ سرمایۂ_یک_عالم و عالم کف_خاک آسماں بیضۂ_قمری نظر آتا ہے مجھے
زندگی میں تو وہ محفل سے اٹھا دیتے تھے دیکھوں اب مر گئے پر کون اٹھاتا ہے مجھے
باغ تجھ بن گل_نرگس سے ڈراتا ہے مجھے چاہوں گر سیر_چمن آنکھ دکھاتا ہے مجھے
شور_تمثال ہے کس رشک_چمن کا یا رب آئنہ بیضۂ_بلبل نظر آتا ہے مجھے
حیرت_آئنہ انجام_جنوں ہوں جیوں شمع کس قدر داغ_جگر شعلہ اٹھاتا ہے مجھے
میں ہوں اور حیرت_جاوید مگر ذوق_خیال بہ_فسون_نگۂ_ناز ستاتا ہے مجھے
حیرت_فکر_سخن ساز_سلامت ہے اسدؔ دل پس_زانوئے_آئینہ بٹھاتا ہے مجھے