Muddat hui hai yaar ko mehmaan kiye hue
19th Century Mirza Ghalib Urduمدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے جوش_قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے
کرتا ہوں جمع پھر جگر_لخت_لخت کو عرصہ ہوا ہے دعوت_مژگاں کیے ہوئے
پھر وضع_احتیاط سے رکنے لگا ہے دم برسوں ہوئے ہیں چاک گریباں کیے ہوئے
پھر گرم_نالہ_ہائے_شرربار ہے نفس مدت ہوئی ہے سیر_چراغاں کیے ہوئے
پھر پرسش_جراحت_دل کو چلا ہے عشق سامان_صدہزار نمکداں کیے ہوئے
پھر بھر رہا ہوں خامۂ_مژگاں بہ_خون_دل ساز_چمن طرازی_داماں کیے ہوئے
باہم_دگر ہوئے ہیں دل و دیدہ پھر رقیب نظارہ و خیال کا ساماں کیے ہوئے
دل پھر طواف_کوئے_ملامت کو جائے ہے پندار کا صنم_کدہ ویراں کیے ہوئے
پھر شوق کر رہا ہے خریدار کی طلب عرض_متاع_عقل_و_دل_و_جاں کیے ہوئے
دوڑے ہے پھر ہر ایک گل_و_لالہ پر خیال صد_گلستاں نگاہ کا ساماں کیے ہوئے
پھر چاہتا ہوں نامۂ_دل_دار کھولنا جاں نذر_دل_فریبی_عنواں کیے ہوئے
مانگے ہے پھر کسی کو لب_بام پر ہوس زلف_سیاہ رخ پہ پریشاں کیے ہوئے
چاہے ہے پھر کسی کو مقابل میں آرزو سرمے سے تیز دشنۂ_مژگاں کیے ہوئے
اک نو_بہار_ناز کو تاکے ہے پھر نگاہ چہرہ فروغ_مے سے گلستاں کیے ہوئے
پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیں سر زیر_بار_منت_درباں کیے ہوئے
جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن بیٹھے رہیں تصور_جاناں کیے ہوئے
غالبؔ ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش_اشک سے بیٹھے ہیں ہم تہیۂ_طوفاں کیے ہوئے