Milti hai khuu-e-yaar se naar iltihaab mein
19th Century Mirza Ghalib Urduملتی ہے خوئے_یار سے نار التہاب میں کافر ہوں گر نہ ملتی ہو راحت عذاب میں
کب سے ہوں کیا بتاؤں جہان_خراب میں شب_ہائے_ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں
تا پھر نہ انتظار میں نیند آئے عمر بھر آنے کا عہد کر گئے آئے جو خواب میں
قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں_گے جواب میں
مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دور_جام ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں
جو منکر_وفا ہو فریب اس پہ کیا چلے کیوں بد_گماں ہوں دوست سے دشمن کے باب میں
میں مضطرب ہوں وصل میں خوف_رقیب سے ڈالا ہے تم کو وہم نے کس پیچ_و_تاب میں
میں اور حظ_وصل خدا_ساز بات ہے جاں نذر دینی بھول گیا اضطراب میں
ہے تیوری چڑھی ہوئی اندر نقاب کے ہے اک شکن پڑی ہوئی طرف_نقاب میں
لاکھوں لگاؤ ایک چرانا نگاہ کا لاکھوں بناؤ ایک بگڑنا عتاب میں
وہ نالہ دل میں خس کے برابر جگہ نہ پائے جس نالہ سے شگاف پڑے آفتاب میں
وہ سحر مدعا_طلبی میں نہ کام آئے جس سحر سے سفینہ رواں ہو سراب میں
غالبؔ چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی پیتا ہوں روز_ابر و شب_ماہتاب میں