Meri hasti fazaaye hairat-abaad-e-tamanna hai
19th Century Mirza Ghalib Urduمری ہستی فضاۓ_حیرت آباد_تمنا ہے جسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے
خزاں کیا فصل_گل کہتے ہیں کس کو کوئی موسم ہو وہی ہم ہیں قفس ہے اور ماتم بال_و_پر کا ہے
وفائے_دلبراں ہے اتفاقی ورنہ اے ہمدم اثر فریاد_دل_ہاۓ_حزیں کا کس نے دیکھا ہے
نہ لائی شوخی_اندیشہ تاب_رنج_نومیدی کف_افسوس ملنا عہد_تجدید_تمنا ہے
نہ سووے آبلوں میں گر سرشک_دیدۂ_نم سے بہ_جولاں_گاۂ_نومیدی نگاۂ_عاجزاں پا ہے
بہ_سختی_ہاۓ_قید_زندگی معلوم آزادی شرر بھی صید_دام_رشتۂ_رگ_ہاۓ_خارا ہے
تغافل_مشربی سے ناتمامی بسکہ پیدا ہے نگاہ_ناز چشم_یار میں زنار_مینا ہے
تصرف وحشیوں میں ہے تصور_ہاۓ_مجنوں کا سواد_چشم_آہو عکس_خال_روئے_لیلا ہے
محبت طرز_پیوند_نہال_دوستی جانے دویدن ریشہ ساں مفت_رگ_خواب_زلیخا ہے
کیا یک_سر گداز_دل نیاز_جوشش_حسرت سویدا نسخۂ_تہ_بندی_داغ_تمنا ہے
ہجوم_ریزش_خوں کے سبب رنگ اڑ نہیں سکتا حناۓ_پنجۂ_صیاد مرغ_رشتہ بر_پا ہے
اثر سوز_محبت کا قیامت بے_محابا ہے کہ رگ سے سنگ میں تخم_شرر کا ریشہ پیدا ہے
نہاں ہے گوہر_مقصود جیب_خود_شناسی میں کہ یاں غواص ہے تمثال اور آئینہ دریا ہے
عزیزو ذکر_وصل_غیر سے مجھ کو نہ بہلاؤ کہ یاں افسون_خواب افسانۂ_خواب_زلیخا ہے
تصور بہر_تسکین_تپیدن_ہاۓ_طفل_دل بہ_باغ_رنگ_ہاۓ_رفتہ گل_چین_تماشا ہے
بہ_سعی_غیر ہے قطع_لباس_خانہ_ویرانی کہ ناز_جادۂ_رہ رشتۂ_دامان_صحرا ہے