Mehram nahin hai tu hi nawa-haaye-raaz ka
19th Century Mirza Ghalib Urduمحرم نہیں ہے تو ہی نوا_ہائے_راز کا یاں ورنہ جو حجاب ہے پردہ ہے ساز کا
رنگ_شکستہ صبح_بہار_نظارہ ہے یہ وقت ہے شگفتن_گل_ہائے_ناز کا
تو اور سوئے_غیر نظر_ہائے_تیز تیز میں اور دکھ تری مژہ_ہائے_دراز کا
صرفہ ہے ضبط_آہ میں میرا وگرنہ میں طعمہ ہوں ایک ہی نفس_جاں_گداز کا
ہیں بسکہ جوش_بادہ سے شیشے اچھل رہے ہر گوشۂ_بساط ہے سر شیشہ_باز کا
کاوش کا دل کرے ہے تقاضا کہ ہے ہنوز ناخن پہ قرض اس گرہ_نیم_باز کا
تاراج_کاوش_غم_ہجراں ہوا اسدؔ سینہ کہ تھا دفینہ گہر_ہائے_راز کا