Meherbaan ho ke bula lo mujhe chaaho jis waqt
19th Century Mirza Ghalib Urduمہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقت میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں
ضعف میں طعنہ_اغیار کا شکوہ کیا ہے بات کچھ سر تو نہیں ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں
زہر ملتا ہی نہیں مجھ کو ستم_گر ورنہ کیا قسم ہے ترے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں
اس قدر ضبط کہاں ہے کبھی آ بھی نہ سکوں ستم اتنا تو نہ کیجے کہ اٹھا بھی نہ سکوں
لگ گئی آگ اگر گھر کو تو اندیشہ کیا شعلۂ_دل تو نہیں ہے کہ بجھا بھی نہ سکوں
تم نہ آؤ_گے تو مرنے کی ہیں سو تدبیریں موت کچھ تم تو نہیں ہو کہ بلا بھی نہ سکوں
ہنس کے بلوائیے مٹ جائے_گا سب دل کا گلہ کیا تصور ہے تمہارا کہ مٹا بھی نہ سکوں