Maze jahaan ke apni nazar mein khaak nahin
19th Century Mirza Ghalib Urduمزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیں سواے خون_جگر سو جگر میں خاک نہیں
مگر غبار ہوے پر ہوا اڑا لے جاے وگرنہ تاب و تواں بال_و_پر میں خاک نہیں
یہ کس بہشت_شمائل کی آمد آمد ہے کہ غیر_جلوۂ_گل رہ_گزر میں خاک نہیں
بھلا اسے نہ سہی کچھ مجھی کو رحم آتا اثر مرے نفس_بے_اثر میں خاک نہیں
خیال_جلوۂ_گل سے خراب ہیں میکش شراب_خانہ کے دیوار_و_در میں خاک نہیں
ہوا ہوں عشق کی غارتگری سے شرمندہ سواے حسرت_تعمیر گھر میں خاک نہیں
ہمارے شعر ہیں اب صرف دل_لگی کے اسدؔ کھلا کہ فائدہ عرض_ہنر میں خاک نہیں