Mat mardumak-e-deeda mein samjho yeh nigaahein
19th Century Mirza Ghalib Urduمت مردمک_دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیں ہیں جمع سویداۓ_دل_چشم میں آہیں
کس دل پہ ہے عزم_صف_مژگان_خود_آرا آئینے کے پایاب سے اتری ہیں سپاہیں
دیر_و_حرم آئینۂ_تکرار_تمنا واماندگی_شوق تراشے ہے پناہیں
جوں مردمک_چشم سے ہوں جمع نگاہیں خوابیدہ بہ_حیرت_کدۂ_داغ ہیں آہیں
پھر حلقۂ_کاکل میں پڑیں دید کی راہیں جوں دود فراہم ہوئیں روزن میں نگاہیں
پایا سر_ہر_ذرہ جگر_گوشۂ_وحشت ہیں داغ سے معمور شقائق کی کلاہیں
یہ مطلع اسدؔ جوہر_افسون_سخن ہو گر عرض_تپاک_جگر_سوختہ چاہیں
حیرت_کش_یک_جلوۂ_معنی ہیں نگاہیں کھینچوں ہوں سویداۓ_دل_چشم سے آہیں