Masjid ke zer-e-saaya kharabaat chahiye
19th Century Mirza Ghalib Urduمسجد کے زیر_سایہ خرابات چاہیے بھوں پاس آنکھ قبلۂ_حاجات چاہیے
عاشق ہوئے ہیں آپ بھی ایک اور شخص پر آخر ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے
دے داد اے فلک دل_حسرت_پرست کی ہاں کچھ نہ کچھ تلافئ_مافات چاہیے
سیکھے ہیں مہ_رخوں کے لیے ہم مصوری تقریب کچھ تو بہر_ملاقات چاہیے
مے سے غرض نشاط ہے کس رو_سیاہ کو اک_گونہ بے_خودی مجھے دن رات چاہیے
نشوونما ہے اصل سے غالبؔ فروع کو خاموشی ہی سے نکلے ہے جو بات چاہیے
ہے رنگ_لالہ_و_گل_و_نسریں جدا جدا ہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے
سر پائے_خم پہ چاہیے ہنگام_بے_خودی رو سوئے_قبلہ وقت_مناجات چاہیے
یعنی بہ_حسب_گردش_پیمانۂ_صفات عارف ہمیشہ مست_مے_ذات چاہیے