Manzoor thi yeh shakl tajalli ko noor ki
19th Century Mirza Ghalib Urduمنظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی قسمت کھلی ترے قد_و_رخ سے ظہور کی
اک خونچکاں کفن میں کروڑوں بناؤ ہیں پڑتی ہے آنکھ تیرے شہیدوں پہ حور کی
واعظ نہ تم پیو نہ کسی کو پلا سکو کیا بات ہے تمہاری شراب_طہور کی
لڑتا ہے مجھ سے حشر میں قاتل کہ کیوں اٹھا گویا ابھی سنی نہیں آواز صور کی
آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ_سنج اڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی
گو واں نہیں پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں کعبے سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی
کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہ_طور کی
گرمی سہی کلام میں لیکن نہ اس قدر کی جس سے بات اس نے شکایت ضرور کی
غالبؔ گر اس سفر میں مجھے ساتھ لے چلیں حج کا ثواب نذر کروں_گا حضور کی