Main unhein chherun aur kuch na kahein
19th Century Mirza Ghalib Urduمیں انہیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں چل نکلتے جو مے پیے ہوتے
قہر ہو یا بلا ہو جو کچھ ہو کاش کے تم مرے لیے ہوتے
میری قسمت میں غم گر اتنا تھا دل بھی یارب کئی دیے ہوتے
آ ہی جاتا وہ راہ پر غالبؔ کوئی دن اور بھی جیے ہوتے