Main aur bazm-e-mai se yun tishna-kaam aaun
19th Century Mirza Ghalib Urduمیں اور بزم_مے سے یوں تشنہ_کام آؤں گر میں نے کی تھی توبہ ساقی کو کیا ہوا تھا
ہے ایک تیر جس میں دونوں چھدے پڑے ہیں وہ دن گئے کہ اپنا دل سے جگر جدا تھا
درماندگی میں غالبؔ کچھ بن پڑے تو جانوں جب رشتہ بے_گرہ تھا ناخن گرہ_کشا تھا