Latafat be-kasafat jalwa paida kar nahin sakti
19th Century Mirza Ghalib Urduلطافت بے_کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی چمن زنگار ہے آئینۂ_باد_بہاری کا
حریف_جوشش_دریا نہیں خودداری_ساحل جہاں ساقی ہو تو باطل ہے دعویٰ ہوشیاری کا
بہار_رنگ_خون_گل ہے ساماں اشک_باری کا جنون_برق نشتر ہے رگ_ابر_بہاری کا
برائے_حل_مشکل ہوں ز_پا افتادۂ_حسرت بندھا ہے عقدۂ_خاطر سے پیماں خاکساری کا
بہ_وقت_سرنگونی ہے تصور انتظارستاں نگہ کو آبلوں سے شغل ہے اختر_شماری کا
اسدؔ ساغر_کش_تسلیم ہو گردش سے گردوں کی کہ ننگ_فہم_مستاں ہے گلہ بد_روزگاری کا