Lazim tha ke dekho mera rasta koi din aur
19th Century Mirza Ghalib Urduلازم تھا کہ دیکھو مرا رستا کوئی دن اور تنہا گئے کیوں اب رہو تنہا کوئی دن اور
مٹ جائے_گا سر گر ترا پتھر نہ گھسے_گا ہوں در پہ ترے ناصیہ_فرسا کوئی دن اور
آئے ہو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ جاؤں مانا کہ ہمیشہ نہیں اچھا کوئی دن اور
جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں_گے کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
ہاں اے فلک_پیر جواں تھا ابھی عارف کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور
تم ماہ_شب_چار_دہم تھے مرے گھر کے پھر کیوں نہ رہا گھر کا وہ نقشا کوئی دن اور
تم کون سے تھے ایسے کھرے داد_و_ستد کے کرتا ملک_الموت تقاضا کوئی دن اور
مجھ سے تمہیں نفرت سہی نیر سے لڑائی بچوں کا بھی دیکھا نہ تماشا کوئی دن اور
گزری نہ بہ_ہر_حال یہ مدت خوش و نا_خوش کرنا تھا جواں_مرگ گزارا کوئی دن اور
ناداں ہو جو کہتے ہو کہ کیوں جیتے ہیں غالبؔ قسمت میں ہے مرنے کی تمنا کوئی دن اور