Larazta hai mera dil zahmat-e-mehr-e-darakhshan par
19th Century Mirza Ghalib Urduلرزتا ہے مرا دل زحمت_مہر_درخشاں پر میں ہوں وہ قطرۂ_شبنم کہ ہو خار_بیاباں پر
نہ چھوڑی حضرت_یوسف نے یاں بھی خانہ_آرائی سفیدی دیدۂ_یعقوب کی پھرتی ہے زنداں پر
فنا تعلیم_درس_بے_خودی ہوں اس زمانے سے کہ مجنوں لام الف لکھتا تھا دیوار_دبستاں پر
فراغت کس قدر رہتی مجھے تشویش_مرہم سے بہم گر صلح کرتے پارہ_ہائے_دل نمکداں پر
نہیں اقلیم_الفت میں کوئی طومار_ناز ایسا کہ پشت_چشم سے جس کی نہ ہووے مہر عنواں پر
مجھے اب دیکھ کر ابر_شفق_آلودہ یاد آیا کہ فرقت میں تری آتش برستی تھی گلستاں پر
بجز پرواز_شوق_ناز کیا باقی رہا ہوگا قیامت اک ہوائے_تند ہے خاک_شہیداں پر
نہ لڑ ناصح سے غالبؔ کیا ہوا گر اس نے شدت کی ہمارا بھی تو آخر زور چلتا ہے گریباں پر
دل_خونیں_جگر بے_صبر_و_فیض_عشق_مستغنی الٰہی یک قیامت خاور آ ٹوٹے بدخشاں پر
اسدؔ اے بے_تحمل عربدہ بیجا ہے ناصح سے کہ آخر بے_کسوں کا زور چلتا ہے گریباں پر