Kyun jal gaya na taab-e-rukh-e-yaar dekh kar
19th Century Mirza Ghalib Urduکیوں جل گیا نہ تاب_رخ_یار دیکھ کر جلتا ہوں اپنی طاقت_دیدار دیکھ کر
آتش_پرست کہتے ہیں اہل_جہاں مجھے سرگرم_نالہ_ہائے_شرربار دیکھ کر
کیا آبروئے_عشق جہاں عام ہو جفا رکتا ہوں تم کو بے_سبب آزار دیکھ کر
آتا ہے میرے قتل کو پر جوش_رشک سے مرتا ہوں اس کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر
ثابت ہوا ہے گردن_مینا پہ خون_خلق لرزے ہے موج_مے تری رفتار دیکھ کر
واحسرتا کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھ ہم کو حریص_لذت_آزار دیکھ کر
بک جاتے ہیں ہم آپ متاع_سخن کے ساتھ لیکن عیار_طبع_خریدار دیکھ کر
زنار باندھ سبحۂ_صد_دانہ توڑ ڈال رہ_رو چلے ہے راہ کو ہموار دیکھ کر
ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں جی خوش ہوا ہے راہ کو پر_خار دیکھ کر
کیا بد_گماں ہے مجھ سے کہ آئینے میں مرے طوطی کا عکس سمجھے ہے زنگار دیکھ کر
گرنی تھی ہم پہ برق_تجلی نہ طور پر دیتے ہیں بادہ ظرف_قدح_خوار دیکھ کر
سر پھوڑنا وہ غالبؔ_شوریدہ حال کا یاد آ گیا مجھے تری دیوار دیکھ کر