Kya tang hum sitam-zadagaan ka jahaan hai
19th Century Mirza Ghalib Urduکیا تنگ ہم ستم_زدگاں کا جہان ہے جس میں کہ ایک بیضۂ_مور آسمان ہے
ہے کائنات کو حرکت تیرے ذوق سے پرتو سے آفتاب کے ذرے میں جان ہے
حالانکہ ہے یہ سیلی_خارا سے لالہ رنگ غافل کو میرے شیشے پہ مے کا گمان ہے
کی اس نے گرم سینۂ_اہل_ہوس میں جا آوے نہ کیوں پسند کہ ٹھنڈا مکان ہے
کیا خوب تم نے غیر کو بوسہ نہیں دیا بس چپ رہو ہمارے بھی منہ میں زبان ہے
بیٹھا ہے جو کہ سایۂ_دیوار_یار میں فرماں_رواۓ_کشور_ہندوستان ہے
ہستی کا اعتبار بھی غم نے مٹا دیا کس سے کہوں کہ داغ جگر کا نشان ہے
ہے بارے اعتماد_وفا_داری اس قدر غالبؔ ہم اس میں خوش ہیں کہ نامہربان ہے
دہلی کے رہنے والو اسدؔ کو ستاؤ مت بے_چارہ چند روز کا یاں میہمان ہے