Kehte to ho tum sab ke but-e-ghaliya-moo aaye
19th Century Mirza Ghalib Urduکہتے تو ہو تم سب کہ بت_غالیہ_مو آئے یک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی کہ وہ آئے
ہوں کشمکش_نزع میں ہاں جذب_محبت کچھ کہہ نہ سکوں پر وہ مرے پوچھنے کو آئے
ہے صاعقہ و شعلہ و سیماب کا عالم آنا ہی سمجھ میں مری آتا نہیں گو آئے
ظاہر ہے کہ گھبرا کے نہ بھاگیں_گے نکیرین ہاں منہ سے مگر بادۂ_دوشینہ کی بو آئے
جلاد سے ڈرتے ہیں نہ واعظ سے جھگڑتے ہم سمجھے ہوئے ہیں اسے جس بھیس میں جو آئے
ہاں اہل_طلب کون سنے طعنۂ_نایافت دیکھا کہ وہ ملتا نہیں اپنے ہی کو کھو آئے
اپنا نہیں یہ شیوہ کہ آرام سے بیٹھیں اس در پہ نہیں بار تو کعبہ ہی کو ہو آئے
کی ہم_نفسوں نے اثر_گریہ میں تقریر اچھے رہے آپ اس سے مگر مجھ کو ڈبو آئے
اس انجمن_ناز کی کیا بات ہے غالبؔ ہم بھی گئے واں اور تری تقدیر کو رو آئے