Kehte ho na denge hum dil agar pada paaya
19th Century Mirza Ghalib Urduکہتے ہو نہ دیں_گے ہم دل اگر پڑا پایا دل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا درد کی دوا پائی درد_بے_دوا پایا
دوست_دار_دشمن ہے اعتماد_دل معلوم آہ بے_اثر دیکھی نالہ نارسا پایا
سادگی و پرکاری بے_خودی و ہشیاری حسن کو تغافل میں جرأت_آزما پایا
غنچہ پھر لگا کھلنے آج ہم نے اپنا دل خوں کیا ہوا دیکھا گم کیا ہوا پایا
حال_دل نہیں معلوم لیکن اس قدر یعنی ہم نے بارہا ڈھونڈا تم نے بارہا پایا
شور_پند_ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا
ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب ہم نے دشت_امکاں کو ایک نقش_پا پایا
بے_دماغ_خجلت ہوں رشک_امتحاں تا_کے ایک بیکسی تجھ کو عالم_آشنا پایا
خاک_بازی_امید کارخانۂ_طفلی یاس کو دو_عالم سے لب_بہ_خندہ وا پایا
کیوں نہ وحشت_غالب باج_خواہ_تسکیں ہو کشتۂ_تغافل کو خصم_خوں_بہا پایا
فکر_نالہ میں گویا حلقہ ہوں ز_سر_تا_پا عضو عضو جوں زنجیر یک_دل_صدا پایا
شب نظارہ_پرور تھا خواب میں خیال اس کا صبح موجۂ_گل کو نقش_بوریا پایا
جس قدر جگر خوں ہو کوچہ دادن_گل ہے زخم_تیغ_قاتل کو طرفہ دل_کشا پایا
ہے مکیں کی پا_داری نام_صاحب_خانہ ہم سے تیرے کوچے نے نقش_مدعا پایا
نے اسدؔ جفا_سائل نے ستم جنوں_مائل تجھ کو جس قدر ڈھونڈا الفت_آزما پایا