Khamoshiyon mein tamasha adaa nikalti hai
19th Century Mirza Ghalib Urduخموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے نگاہ دل سے ترے سرمہ_سا نکلتی ہے
فشار_تنگی_خلوت سے بنتی ہے شبنم صبا جو غنچے کے پردے میں جا نکلتی ہے
نہ پوچھ سینۂ_عاشق سے آب_تیغ_نگاہ کہ زخم_روزن_در سے ہوا نکلتی ہے
بہ_رنگ_شیشہ ہوں یک_گوشۂ_دل_خالی کبھی پری مری خلوت میں آ نکلتی ہے
بحلقۂ خم گیسو ہے راستی آموز دہان مار سے گویا صبا نکلتی ہے
اسد کو حسرت عرض نیاز تھی دم قتل ہنوز یک سخن بے صدا نکلتی ہے