Kahoon jo haal to kehte ho mudda'a kahiye
19th Century Mirza Ghalib Urduکہوں جو حال تو کہتے ہو مدعا کہیے تمہیں کہو کہ جو تم یوں کہو تو کیا کہیے
نہ کہیو طعن سے پھر تم کہ ہم ستم_گر ہیں مجھے تو خو ہے کہ جو کچھ کہو بجا کہیے
وہ نیشتر سہی پر دل میں جب اتر جاوے نگاہ_ناز کو پھر کیوں نہ آشنا کہیے
نہیں ذریعۂ_راحت جراحت_پیکاں وہ زخم_تیغ ہے جس کو کہ دل_کشا کہیے
جو مدعی بنے اس کے نہ مدعی بنیے جو ناسزا کہے اس کو نہ ناسزا کہیے
کہیں حقیقت_جاں_کاہیٔ_مرض لکھیے کہیں مصیبت_ناسازیٔ_دوا کہیے
کبھی شکایت_رنج_گراں_نشیں کیجے کبھی حکایت_صبر_گریز_پا کہیے
رہے نہ جان تو قاتل کو خوں_بہا دیجے کٹے زبان تو خنجر کو مرحبا کہیے
نہیں نگار کو الفت نہ ہو نگار تو ہے روانیٔ_روش و مستیٔ_ادا کہیے
نہیں بہار کو فرصت نہ ہو بہار تو ہے طراوت_چمن و خوبیٔ_ہوا کہیے
سفینہ جب کہ کنارے پہ آ لگا غالبؔ خدا سے کیا ستم_و_جور_ناخدا کہیے