Kal ke liye kar aaj na khasat sharaab mein
19th Century Mirza Ghalib Urduکل کے لیے کر آج نہ خست شراب میں یہ سوء_ظن ہے ساقی_کوثر کے باب میں
ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند گستاخی_فرشتہ ہماری جناب میں
جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دم_سماع گر وہ صدا سمائی ہے چنگ و رباب میں
رو میں ہے رخش_عمر کہاں دیکھیے تھمے نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
اتنا ہی مجھ کو اپنی حقیقت سے بعد ہے جتنا کہ وہم_غیر سے ہوں پیچ_و_تاب میں
اصل_شہود_و_شاہد_و_مشہود ایک ہے حیراں ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں
ہے مشتمل نمود_صور پر وجود_بحر یاں کیا دھرا ہے قطرہ و موج_و_حباب میں
شرم اک ادائے_ناز ہے اپنے ہی سے سہی ہیں کتنے بے_حجاب کہ ہیں یوں حجاب میں
آرایش_جمال سے فارغ نہیں ہنوز پیش_نظر ہے آئنہ دایم نقاب میں
ہے غیب_غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں
غالبؔ ندیم_دوست سے آتی ہے بوئے_دوست مشغول_حق ہوں بندگی_بو_تراب میں