Kabhi neiki bhi us ke jee mein gar aa jaaye hai mujh se
19th Century Mirza Ghalib Urduکبھی نیکی بھی اس کے جی میں گر آ جائے ہے مجھ سے جفائیں کر کے اپنی یاد شرما جائے ہے مجھ سے
خدایا جذبۂ_دل کی مگر تاثیر الٹی ہے کہ جتنا کھینچتا ہوں اور کھنچتا جائے ہے مجھ سے
وہ بد_خو اور میری داستان_عشق طولانی عبارت مختصر قاصد بھی گھبرا جائے ہے مجھ سے
ادھر وہ بد_گمانی ہے ادھر یہ ناتوانی ہے نہ پوچھا جائے ہے اس سے نہ بولا جائے ہے مجھ سے
سنبھلنے دے مجھے اے نا_امیدی کیا قیامت ہے کہ دامان_خیال_یار چھوٹا جائے ہے مجھ سے
تکلف بر_طرف نظارگی میں بھی سہی لیکن وہ دیکھا جائے کب یہ ظلم دیکھا جائے ہے مجھ سے
ہوئے ہیں پاؤں ہی پہلے نبرد_عشق میں زخمی نہ بھاگا جائے ہے مجھ سے نہ ٹھہرا جائے ہے مجھ سے
قیامت ہے کہ ہووے مدعی کا ہم_سفر غالبؔ وہ کافر جو خدا کو بھی نہ سونپا جائے ہے مجھ سے