Kab woh sunta hai kahani meri
19th Century Mirza Ghalib Urduکب وہ سنتا ہے کہانی میری اور پھر وہ بھی زبانی میری
خلش_غمزۂ_خوں_ریز نہ پوچھ دیکھ خونابہ_فشانی میری
کیا بیاں کر کے مرا روئیں_گے یار مگر آشفتہ_بیانی میری
ہوں زخود رفتۂ_بیدائے_خیال بھول جانا ہے نشانی میری
متقابل ہے مقابل میرا رک گیا دیکھ روانی میری
قدر_سنگ_سر_رہ رکھتا ہوں سخت ارزاں ہے گرانی میری
گرد_باد_رہ_بیتابی ہوں صرصر_شوق ہے بانی میری
دہن اس کا جو نہ معلوم ہوا کھل گئی ہیچ مدانی میری
کر دیا ضعف نے عاجز غالبؔ ننگ_پیری ہے جوانی میری