Huzoor Risalat Ma'ab Mein
20th Century Allama Iqbal Urdu══════════════════════════════════════════════════════════════════════ حضور رسالت مآب ميں (Hazoor-e-Risalat) ══════════════════════════════════════════════════════════════════════
Collection: Bang-e-Dara Part: part03
گراں جو مجھ پہ يہ ہنگامہ زمانہ ہوا جہاں سے باندھ کے رخت سفر روانہ ہوا قيود شام وسحر ميں بسر تو کي ليکن نظام کہنہ عالم سے آشنا نہ ہوا فرشتے بزم رسالت ميں لے گئے مجھ کو حضور آيہ رحمت ميں لے گئے مجھ کو کہا حضور نے ، اے عندليب باغ حجاز ! کلي کلي ہے تري گرمي نوا سے گداز ہميشہ سرخوش جام ولا ہے دل تيرا فتادگي ہے تري غيرت سجود نياز اڑا جو پستي دنيا سے تو سوئے گردوں سکھائي تجھ کو ملائک نے رفعت پرواز نکل کے باغ جہاں سے برنگ بو آيا ہمارے واسطے کيا تحفہ لے کے تو آيا؟ '' حضور ! دہر ميں آسودگي نہيں ملتي تلاش جس کي ہے وہ زندگي نہيں ملتي ہزاروں لالہ و گل ہيں رياض ہستي ميں وفا کي جس ميں ہو بو' وہ کلي نہيں ملتي مگر ميں نذر کو اک آبگينہ لايا ہوں جو چيز اس ميں ہے' جنت ميں بھي نہيں ملتي جھلکتي ہے تري امت کي آبرو اس ميں طرابلس کے شہيدوں کا ہے لہو اس ميں ''
══════════════════════════════════════════════════════════════════════