Sarguzasht-e-Adam
20th Century Allama Iqbal Urdu══════════════════════════════════════════════════════════════════════ سرگزشت آدم (Sarguzasht-e-Adam) ══════════════════════════════════════════════════════════════════════
Collection: Bang-e-Dara Part: part01
سنے کوئي مري غربت کي داستاں مجھ سے بھلايا قصہ پيمان اوليں ميں نے لگي نہ ميري طبيعت رياض جنت ميں پيا شعور کا جب جام آتشيں ميں نے رہي حقيقت عالم کي جستجو مجھ کو دکھايا اوج خيال فلک نشيں ميں نے ملا مزاج تغير پسند کچھ ايسا کيا قرار نہ زير فلک کہيں ميں نے نکالا کعبے سے پتھر کي مورتوں کو کبھي کبھي بتوں کو بنايا حرم نشيں ميں نے کبھي ميں ذوق تکلم ميں طور پر پہنچا چھپايا نور ازل زير آستيں ميں نے کبھي صليب پہ اپنوں نے مجھ کو لٹکايا کيا فلک کو سفر، چھوڑ کر زميں ميں نے کبھي ميں غار حرا ميں چھپا رہا برسوں ديا جہاں کو کبھي جام آخريں ميں نے سنايا ہند ميں آ کر سرود رباني پسند کي کبھي يوناں کي سر زميں ميں نے ديار ہند نے جس دم مري صدا نہ سني بسايا خطہء جاپان و ملک چيں ميں نے بنايا ذروں کي ترکيب سے کبھي عالم خلاف معني تعليم اہل ديں ميں نے لہو سے لال کيا سينکڑوں زمينوں کو جہاں ميں چھيڑ کے پيکار عقل و ديں ميں نے سمجھ ميں آئي حقيقت نہ جب ستاروں کي اسي خيال ميں راتيں گزار ديں ميں نے ڈرا سکيں نہ کليسا کي مجھ کو تلواريں سکھايا مسئلہ گردش زميں ميں نے کشش کا راز ہويدا کيا زمانے پر لگا کے آئنہ عقل دور بيں ميں نے کيا اسير شعاعوں کو ، برق مضطر کو بنادي غيرت جنت يہ سر زميں ميں نے مگر خبر نہ ملي آہ! راز ہستي کي کيا خرد سے جہاں کو تہ نگيں ميں نے ہوئي جو چشم مظاہر پرست وا آخر تو پايا خانہء دل ميں اسے مکيں ميں نے
══════════════════════════════════════════════════════════════════════