Majnoon ne sheher chhora to sehra bhi chhor de
20th Century Allama Iqbal Urdu══════════════════════════════════════════════════════════════════════ مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھي چھوڑ دے () ══════════════════════════════════════════════════════════════════════
Collection: Bang-e-Dara Part: part01
مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھي چھوڑ دے نظارے کي ہوس ہو تو ليلي بھي چھوڑ دے واعظ ! کمال ترک سے ملتي ہے ياں مراد دنيا جو چھوڑ دي ہے تو عقبي بھي چھوڑ دے تقليد کي روش سے تو بہتر ہے خودکشي رستہ بھي ڈھونڈ ، خضر کا سودا بھي چھوڑ دے مانند خامہ تيري زباں پر ہے حرف غير بيگانہ شے پہ نازش بے جا بھي چھوڑ دے لطف کلام کيا جو نہ ہو دل ميں درد عشق بسمل نہيں ہے تو تو تڑپنا بھي چھوڑ دے شبنم کي طرح پھولوں پہ رو ، اور چمن سے چل اس باغ ميں قيام کا سودا بھي چھوڑ دے ہے عاشقي ميں رسم الگ سب سے بيٹھنا بت خانہ بھي ، حرم بھي ، کليسا بھي چھوڑ دے سوداگري نہيں ، يہ عبادت خدا کي ہے اے بے خبر! جزا کي تمنا بھي چھوڑ دے اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل ليکن کبھي کبھي اسے تنہا بھي چھوڑ دے جينا وہ کيا جو ہو نفس غير پر مدار شہرت کي زندگي کا بھروسا بھي چھوڑ دے شوخي سي ہے سوال مکرر ميں اے کليم ! شرط رضا يہ ہے کہ تقاضا بھي چھوڑ دے واعظ ثبوت لائے جو مے کے جواز ميں اقبال کو يہ ضد ہے کہ پينا بھي چھوڑ دے
══════════════════════════════════════════════════════════════════════