Huzoor-e-shah mein ahl-e-sukhan ki aazmaish hai
19th Century Mirza Ghalib Urduحضور_شاہ میں اہل_سخن کی آزمائش ہے چمن میں خوش_نوایان_چمن کی آزمائش ہے
قد و گیسو میں قیس و کوہ_کن کی آزمائش ہے جہاں ہم ہیں وہاں دار_و_رسن کی آزمائش ہے
کریں_گے کوہ_کن کے حوصلے کا امتحان آخر ابھی اس خستہ کے نیروے_تن کی آزمائش ہے
نسیم_مصر کو کیا پیر_کنعاں کی ہوا_خواہی اسے یوسف کی بوئے_پیرہن کی آزمائش ہے
وہ آیا بزم میں دیکھو نہ کہیو پھر کہ غافل تھے شکیب_و_صبر_اہل_انجمن کی آزمائش ہے
رہے دل ہی میں تیر اچھا جگر کے پار ہو بہتر غرض شست_بت_ناوک_فگن کی آزمائش ہے
نہیں کچھ سبحہ_و_زنار کے پھندے میں گیرائی وفاداری میں شیخ و برہمن کی آزمائش ہے
پڑا رہ اے دل_وابستہ بیتابی سے کیا حاصل مگر پھر تاب_زلف_پرشکن کی آزمائش ہے
رگ_و_پے میں جب اترے زہر_غم تب دیکھیے کیا ہو ابھی تو تلخیٔ_کام_و_دہن کی آزمائش ہے
وہ آویں_گے مرے گھر وعدہ کیسا دیکھنا غالبؔ نئے فتنوں میں اب چرخ_کہن کی آزمائش ہے