Husn-e-mah garche ba-hangaam-e-kamaal achha hai
19th Century Mirza Ghalib Urduحسن_مہ گرچہ بہ_ہنگام_کمال اچھا ہے اس سے میرا مہہ_خورشید_جمال اچھا ہے
بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے
اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا ساغر_جم سے مرا جام_سفال اچھا ہے
بے_طلب دیں تو مزا اس میں سوا ملتا ہے وہ گدا جس کو نہ ہو خوئے_سوال اچھا ہے
ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
ہم_سخن تیشہ نے فرہاد کو شیریں سے کیا جس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچھا ہے
قطرہ دریا میں جو مل جاے تو دریا ہو جائے کام اچھا ہے وہ جس کا کہ مآل اچھا ہے
خضر_سلطاں کو رکھے خالق_اکبر سرسبز شاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچھا ہے
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے